Fiza Baloch

Fiza Baloch

Fiza balouch, lives in Karachi. A business graduate.Lecturer by profession. An avid reader and an aspiring writer. she has authored a novel and couple of short stories. Her center ofwriting is social taboos , human rights and anything that can change the society as whole in positive way.
Fiza Baloch

 

پچھلے دسمبر کی بات ہے۔آدھی رات گئے ایک ہاتھ میں ” کافی” کا کپ اور دوسرے ہاتھ کی دو بیچ والی اُنگلیوں میں قلم پھساۓ الفاظ کے نزول کا انتظار کرہی تھی۔بہت کچھ لکھنا چاہ رہی تھی پر کچھ بھی لکھ نہیں پا رہی تھی۔بےبسی کے عالم سے دوچار گھروالوں سے چُھپ چھُپا کےگھر سے نکل پڑی۔ابھی سوچوں کی گُتھیاں سلجھانے کی ابتدا ہی تھی کے”اِسٹریٹ لائٹ” کے نیچے فُٹ پاتھ پہ بیٹھے سفید پاجامے اور کمیزمیں ملبوس حضرت پہ نظر پڑی۔دور سے وہ اپنے “منٹو” جیسا دکھتا تھا۔یہ سوچ کےکہ”منٹو” نہیں تو “منٹو” جیسا سہی میں اس کی جانب چل پڑی۔میرے قدموں کی آہٹ سن کے ایک پل کے لیے اس منٹو نما شخص نے” نوٹ بک “سے نظریں اُٹھا کے مجھے دیکھا اور پھر سے لکھنے میں مشغول ہوگیا۔پر مجھ غریب کی نظریں تواس پہ جم ہی گئیں۔وہ “منٹو” جیسا نہیں “منٹو” ہی تھا۔بہت دیر چکرانے کے بعد جب دماغ اپنی جگہ پہ آیا تو میں نے گفتگو کا آغاز کیااور پھر اُس بے تکلف گفتگو کاسلسلہ رات بھر جاری رہا۔۔

میں:تم منٹو جیسے دِکھتے ہو!

منٹو: ناچیز کی فہم کے حساب سے منٹو، منٹو جیسا ہی دکھنا چاہیے۔نہیں؟

میں:کیا تم واقعہ منٹو ہو؟

منٹو:بی بی مجھے لکھنے دو۔

میں:سعادت حسن منٹو تو بہت پہلے مر  گیاپھر تم کیسے منٹو ہو سکتے ہو؟

منٹو:سعادت حسن کی تو ہڈیاں بھی سڑ گئیں۔منٹو اب بھی زندہ ہے۔میں سعادت حسن نہیں بس منٹو ہوں۔

میں:اگر تم سچ میں منٹو ہو تو میرےسوالا ت کے جواب دو۔کچھ اُلجھنیں سلجھ جائیں گی۔

منٹو:وقت نہیں میرے پاس۔مجھے لکھنے دو ۔

میں:اور میرےسوالات؟

منٹو:پہلے میرے سوال کا جواب دو۔آدھی رات گئےتم اکیلی لڑکی ویران سڑک پہ کیا کررہی ہو؟

میں:لکھنا چاہ رہی تھی  پرلکھانہیں جا رہا۔رات گئے گھر میں بد روحوں کی طرح پھرتی تو پاگل سمجھی جاتی۔ویسے بھی گھروالے مجھے پاگل واگل سمجھتے ہیں۔

منٹو:کچھ نیا لکھنا  کوئی  آسان  کام نہیں بی بی۔چنگاری کو شعلون میں تبدیل کرنا آسان ہے مگر چنگاری کا پیدا کرنا بہت مشکل ہے۔چلو یہاں بیٹھو اور پوچھو جو پوچھنا ہے۔کیا یاد کرو گی۔

میں:ارے واہ تم تو بڑے اچھے نکلے منٹو!!! چلوسب سے پہلے یہ بتاوتمہاری تحریر میں اتنی کڑواہٹ کیوں ہے؟کبھی تو   تم  بھی باقی کہانی نگاروں کی طرح  کچھ میٹھابول لیا کرو۔

منٹو:سچ بولنے والوں کو میٹھی باتیں کرنا نہیں آتیں بی بی ۔میری تحریریں آپ لوگوں کو کڑوی اور کسیلی لگتی ہیں۔مگر اب تک مٹھاسیں آپ کو پیش کی جارہی ہیں۔ان سے انسانیت کو کیا فائدہ ہوا ہے۔نیم کے پتے کڑوے سہی، مگر خون  ضرور صاف کرتے ہیں۔

میں:بات میں دم تو ہے ۔تمہاری تحریر پہ تنقید کی گئی ہے کہ تم اپنے “فحش افسانوں” سے لوگوں کے خیالات و جذبات میں ہیجان پیدا کرتے ہو۔تم کو نہیں لگتا  کہ تمہارے ان “فحش افسانوں” کی وجہ سے معاشرے کے تھذیب و تمدن کا حرج ہو سکتا ہے؟

منٹو:دیکھو بی بی سچ تو یہ ہے کہ میں لوگوں کے خیالات و جذبات میں ہیجان پیدا  کرنانہیں  چاہتا۔میں تھذیب و تمدن اور سوسائٹی کی چولی کیا اُتاروں گا، جوہے ہی ننگی۔میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔اس لیئے کہ یہ میرا کام نہیں درزیوں کا ہے۔

میں:ہاں لیکن سوسائٹی کی گندگی کو مھذب الفاظ میں بھی تو بیان کیا جا سکتا ہے۔کیا    معاشرے کی برائیوں  کی  عکاسی گندے الفاظ کے بغیر نہیں ہو سکتی؟

منٹو:بی بی اب یہ چھوٹی سی بات میں تمھیں کیسے سمجھاؤں۔میرے الفاظ گندے نہیں تمھاری سوچ گندی ہے۔میرے الفاظ صرف ننگے ہیں۔

میں:لیکن جب یہی باتیں ڈھکے چھُپے الفاظ میں کی جاسکتی ہیں تو  اتنی فحش کلامی کیوں؟

منٹو:یہ فحش کلامی کیا ہوتا ہے؟چلو تم ہی بتا دواگر میں کسی عورت کے  سینے کا ذکر کرنا چاہوں گا تو اسےعورت کا سینہ ہی کہوں گا نہ؟عورت کی چھاتیوں کو آپ مونگ پھلی ، میز یا اُسترا نہیں کہہ سکتے۔یوں تو بعض حضرات کے نذدیک عورت کا وجود ہی فحش ہے۔مگر اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے؟ تم ہی بتا دو۔

میں:چلو اس بات کو ماروگولی  ،تم مجھے یہ بتاؤکہ تمہاری  ہر دوسری تحریر کا موضوع  کوئی طوائف یا کال گرل کیوں ہوتی  ہے؟تمہارے افسانوں کی ہیروئن کوئی شریف گھریلو عورت کیوں نہیں؟

منٹو:سیدھی سی بات ہے بی بی، چکی پیسنے والی عورت جو دن بھرکام کرتی ہے اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے، میرے افسانون کی ہیروئن نہیں ہوسکتی ۔میرے افسانوں کی ہیروئن چکلے کی ایک  ٹکھیائی رنڈی ہوسکتی ہے جو رات کو جاگتی ہے اور دن کو سوتے میں کبھی کبھی یہ ڈراؤنا خواب دیکھ کہ اٹھ بیٹھتی ہے کہ  بڑہاپا اس کے دروازے پہ دستک دینے آرہا ہے۔اس کی بھاری بھاری پپوٹے جن پر برسوں کی اُچٹی ہو ئی نیندیں منجمند ہوگئی ہیں میرے  افسانوں کا موضوع بن سکتے  ہیں۔اس  کی غلاظت، اس کی بیماریاں، اس  کا چڑچڑاپن، اس کی گلیاں یہ سب مجھے  بھاتی ہیں۔

میں:کبھی طوائف  کےکوٹھے پہ جانا ہوا؟سچ بتانا منٹو۔

منٹو:ہاں۔جھوٹ نہیں بولوں گا۔یہ عیب شروع سے مجھ میں ہے جھوٹ بولنے کا سلیقہ نہیں۔جاتا رہتا ہوں کوٹھوں پہ۔رنڈی کا کوٹھا اور پیر کا مزار یہی دو جگہیں ہیں جہاں میرے دل کو سکون ملتا ہے۔ان دونوں جگہون پر فرش  سے لے کر چھت تک دھوکا ہی دھوکا ہے۔جو آدمی خود کو دھوکا دینا چاہے اس کے لیئے ان سے اچھا مقام اور کیا ہوسکتا ہے۔رنڈی کے کوٹھے پہ ماں باپ اپنی اولاد سے پیشہ کراتے ہیں اور مقبروں اور تکیوں میں انسان اپنے خدا سے۔

میں:خدا سے یاد آیا۔خدا کو مانتے ہو؟بُرا مت منانا،میں نے تو سنا ہے  فحش کلام ہونے کے ساتھ ساتھ”کافر” بھی  ہو۔

منٹو:غلط سنا ہے۔میرے خدا اور شیطان دونوں سے بہت اچھے مراسم ہیں بوقت ضرورت دونوں میرے کام آتے ہیں۔بس ایک درخواست ہے جو لاکھ بولنے کے باوجودبھی خدا سنی ان سنی کر دیتا ہے۔

میں:اچھا ! وہ کیا؟

منٹو:میں خدا کو بولتا ہوں  خدا کے لیئے تم یہ انسانوں کے قانون توڑ دو۔ان کی بنائی ہوئی جیلیں ڈھا دو اور آسمانوں پر  اپنی جیلیں خود بنادو، خود اپنی عدالت میں ان کو سزا دو۔کیونکہ اور کچھ نہیں کم از کم خدا تو ہو۔مگر مجال جو وہ میری بات سن جاۓ۔

میں:جیلیں مجرموں کے لیے بنیں ہیں۔یہ نا ہوتیں تو مجرم کھلے سانڈھ کی طرح دندناتے پھرتے۔

منٹو:کوئی  مجرم نہیں۔انسان سے خود جرم سرزرد نہیں ہوتا، حالات سے ہوتا ہے۔اور میرے حساب سے دنیا کے ہر جرم کے پیچھے “بھوک” نامی شےکا ہاتھ ہے۔ یقین کرو دنیا میں جتنی لعنتیں ہیں بھوک ان کی ماں ہے۔

میں:دیکھو غلط بات نہ کرو منٹو۔بھوکے ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے آپ دوسروں کا نوالا  چھین لیں۔

منٹو:میں  غلط بات نہیں کر رہا بی بی تم غلط بات کر رہی ہو۔ایک  مثال سے سمجھاتا ہوں تمہیں۔ہے تو بہت وہیات مگر بات سچی ہے۔مرد کی نظروں کو  اگر عورت کے دیدار کا بھوکا رکھا گیا تو وہ شاید اپنے ہم جنسوں اور حیوانوں میں ہی اس کا عکس دیکھنے کی کو شش کرے گا۔روٹی کے بھوکے اگر فاقے ہی کھینچتے رہے تو تنگ آکر دوسرے کا نوالہ ضرور چھینیں گے۔

میں:پھر بھی میں یہی کہوں گی وجہ کوئی بھی ہو دوسروں کا حق مارنا گناہ ہے اور اس کی سزا مجرم کو ملنی چاہیے۔

منٹو:گناہ ثواب، سزا اور جزا کی بھول بھلیاں میں پھنس کہ انسان کسی مسئلے پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور نہیں کرسکتا۔

میں:اچھا بھئی چھوڑو ان بورنگ باتوں کو یہ بتاو”حسن” اور” عشق” کے مطلق کیا کہو گے؟

منٹو: حسن دھوکا ہے،دھوکا  حسین ہے۔ بلکہ یوں کہہ لو ہر شے جو ہرجائی ہو خوبصورت ہوتی ہے۔خوبصورتی میں خلوص ہو،نا ممکن ہے۔بدصورتی ہمیشہ پُرخلوص ہوتی ہے۔

میں:اور  عشق؟

منٹو:بکواس ہے۔

میں :مطلب؟

منٹو:مطلب عشق بکواس ہے۔نہ یہ جیومیٹری ہے نہ الجبرا۔بس بکواس ہے۔چونکہ یہ بکواس ہے اس لئے اس  میں گرفتار ہونے والے کو بکواس سے  ہی مدد لینی چاہیے۔

میں:تو گویا میں یہ سمجھوں کی منٹو محبت پہ یقین نہیں رکہتا؟

منٹو: یقین رکھتا ہوں پر اس کو سمجھ نہیں پایا۔ہم مرد محبت کو سمجھتے ہی کہاں ہیں۔ہمارا عورت سے محبت کرنے کا پہلا  مقصد  ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ ہماری ہوجاۓ۔محبت تو جذبوں کی امانت ہے بی بی،فقط بستر کی سلوٹ زدہ چادر پر گزارے جانے والے چند بدبودار لمحے محبت نہیں کہلاتے۔

میں:محبت  سب کو نصیب نہیں ہوتی منٹو۔اب تم اپنی  ہی مثال لے لو۔تم سے محبت کرنے والوں کی   تعداد  سے کہیں زیادہ تم  پہ تنقید کرنے والوں   کی تعدادہے۔

منٹو:یہ تو اچھا ہے نہ!اگر سب لوگ مجھ سے محبت کرنا شروع کردیں گے تو میں اس پہیے کی مانند ہوجاؤں گا جس میں اندر باہر، اوپر نیچے سب جگہ تیل دیا گیا ہو۔ میں کبھی اس گاڑی کو آگے نہ دھکیل سکوں گا جسے لوگ زندگی کہتے ہیں۔

میں: ایسی درد بھری زندگی بھی کیا منٹو!

منٹو:  اگر آپ کی زندگی  درد کے احساس کے  بغیر گزری ہے تو شاید اپ ابھی پیدا نہیں ہوے۔چلو بہت سوال ہو گئے بی بی۔سورج کی پہلی کرن  کے نکلنے سے پہلے میں نکل لیتا ہوں۔تم بھی گھر جاؤ۔خدا حافظ!!

میں: آخری سوال! پلیز منٹو بتاتے جاؤ۔یہ “زندگی ” کیا ہے؟ مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی ۔

منٹو:مختصر الفاظ میں زندگی کے متعلق صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک “آہ” ہے جو “واہ” میں لپیٹ کہ پیش کی گئی۔

میں:سنو ! تم کہاں چل دیے؟

منٹو:وہاں سامنے قبرستان میں۔

میں:تمہاری  قبر وہاں ہے؟

منٹو:  میری قبر نہیں بی بی، سعادت حسن منٹوکی قبر کی قبر ہےجو اب بھی سمجھتا ہے کہ اس کا نام لوح جہاں پرحرف مکرر نہیں تھا۔ یہاں سعادت حسن منٹو دفن ہے اس کے سینے میں افسانہ نگاری کے سارے رموز دفن ہیں وہ اب بھی منوں مٹی کے نیچے سوچ رہا ہے کہ وہ بڑا افسانہ نگار ہے یا خدا!!!

اور وہ چلا گیا!!!

منٹو چلا گیا!!!

Comments

comments

LEAVE A REPLY